مینگورہ، ضلع سوات کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر برطانیہ کی ملکہ کوئین الزبتھ نے اس شہر کو سلطنتِ برطانیہ کے سوئٹزرلینڈ کا نام دیا تھا۔ یہاں آج سے سولہ سال پہلے کیے گئے ایک سروے میں پتہ چلا کہ علاقے میں موجود اجرتی قاتلوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو بچپن میں یتیم ہو گئے تھے۔اس پر سوات بوائز اسکاؤٹ کے چندممبران نے ان بچوں کے لئے خپل کور فاؤنڈیشن بنائی اور اپنے دفتر کے ایک کمرے میں پانچ اسٹوڈنٹس کے ساتھ تعلیم کاآغاز کیا۔ تھوڑے ہی عرصے میں ان کی تعداد بڑھنے لگی اور باقاعدہ طور پر ایک اسکول کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس موقع پر کمیونیٹی کے دیگر لوگوں کو بھی اس منصوبے میں شامل کرلیا گیا اور ان کے تعاون سے خپل کور ماڈل اسکول کا قیام عمل میں آیا۔
خپل کور ماڈل اسکول اپنی مدد آپ کے تحت یتیم بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے قائم کیا گیا ایک ایسا مثالی ادارہ ہے کہ جس میں آج مینگورہ کے کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ بھی اپنے بچوں کو داخل کروانا باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔خپل کور پشتو زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اپنا گھر۔سوات بوائز اسکاؤٹ کے ممبر اور خپل کور ماڈل اسکول کے ڈائریکٹر محمد علی کا کہنا تھا کہ اس وقت یہاں اسٹوڈنٹس کی کل تعداد 900 تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں سے 200یتیم بچے ہیں جن کے اخراجات خپل کور فاؤنڈیشن لوگوں کے تعاون سے پورے کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسکول کی شاندار عمارت کے ساتھ ساتھ اسکول کے ،معیارِ تعلیم ، غیر نصابی سرگرمیوں ، بورڈنگ ، تربیت اور صحت کی سہولتوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔ آپ ہمارے اسکول کا موازنہ پبلک یا پرائیویٹ سیکٹر میں قائم کسی بھی دوسرے مہنگے اور بڑے ادارے سے کر سکتے ہیں۔
محمد علی کہنا تھا کہ یتیم بچیوں کے لئے بھی ایک گرلز اسکول قائم کردیا گیا ہے۔جس میں اس وقت 700 بچیاں پڑھ رہی ہیں۔ان میں سے 170 یتیم بچیاں ہیں جن کے بورڈنگ سمیت تمام تر اخراجات خپل کور فاؤنڈیشن ادا کرتی ہے۔اچھے نمبر وں سے کامیابی حاصل کرنے والے یتیم بچے بچیوں کو انٹر سائنس یا انٹر آرٹس کر لینے تک ان کی مدد جاری رکھی جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتا ہے تو اسے قرضِ حسنہ دیا جاتا ہے جسے وہ نوکری لگ جانے کے بعد اپنی سہولت سے واپس کرتا ہے۔اس کے علاوہ اس اسکول میں داخل ہر یتیم بچے یا بچی کا ایک بینک اکاؤنٹ کھلوا دیا جاتاہے جس میں ہر ماہ پانچ سو روپے جمع کروائے جاتے ہیں جنہیں وہ اسکول میں اپنی تعلیم مکمل کرلینے کے بعد اگلی زندگی شروع کرنے کے لئے کام میں لا سکتے ہیں۔محمد علی نے بتایا کہ ہمارا اگلاہدف ان یتیم بچوں کے لئے ماڈل ولیج کا قیام ہے جس کے لئے ہم نے زمین خرید لی ہے ۔یہ منصوبہ بھی بہت جلد شروع کر دیا جائے گا۔محمد علی کا ماننا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اچھی سوچ رکھنے والے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔اور جب تک ایسے لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
یہ مواد میرا پیشن پاکستان ٹیم نے تیارکیا ہے اور کاپی رائٹ قوانین کے تحت اس مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
بہتر اردو فونٹ میں پڑھنے کے لئے
یہاں کلک کریں






MASHALLAH…. GREAT WORK….
hum abhi bhi zinda hain
I salot to ur teem .this a great effort.we are welcome to you in swat.we are fully cooperated to your teem.
Ghulam Farooq…we appreciate your feelings, thanks keep spreading our stories….so people should know that Pakistan’s GLASS IS HALF FULL and not half empty!
oh’ pakistani
your glass is not half full
but glass is full “full”
MASHA ‘ALLAH…….
good and great effort
you both…
your effort are appreciatable…..
GOOD WORK..